Monday, January 20, 2020

urdu shayari about love

urdu poetry about love

آتیش ای عشق وہ
جہنم ہے ، جس میں فردوس کے نزازارے ہیں۔

[
جگر مورادابائی]

---------------------------------
عشق نی ، 'غالب' ، نکمہ کار دیا ، وار
ہم بھی آدھی دی کام کی۔

[
مرزا غالب]

---------------------------------
عشق پار زون نہیں ہے یہ وہ آتیش ، 'غالب،
جو لاگاے نہ لگے ، اور بوجھائے نہ بنے۔

[
مرزا غالب]

--------------------------------- 
آیا
ہے بی کاسی ای عشق پہ رونا ، ' غالب '، کس کے
گھر جائے گیگا ، سیلاب ای بالا میرے بعث۔

[
مرزا غالب]

---------------------------------
محبBATت میں نہیں ہے فراق جینے اور مارے کا ،
عیسی کو دیک کار جیت ہین ، جس کافر پہ دم نکلے۔

[
مرزا غالب]

---------------------------------
عاشقی صابر۔طالب اور تمنا بیتاب ،
دل کا کیا رنگ کروون ، KHUN-E-JIGAR HONE TAK.

[
مرزا غالب]

---------------------------------
عشق سی تبت نہ زیست کا مزا پایا ،
درد کی داوسہ پسائی ، درد ای لا-داوا پایا۔

[
مرزا غالب]

---------------------------------
کہتا ہے کون نالہ ای بلبل کو بی آسار ،
پردے میں گالی کے لاکھ جگر چاق ہو گیے ،

[
مرزا غالب]

---------------------------------
بلبل کے کیاروبار پہ ہن
کھنڈھاAYے گل ، کہتے ھین عشق جس کو کھال ہے دیماگ کا۔

[
مرزا غالب]

---------------------------------
عشق میں جی کو صابر- تواب کہان
ہم سی آنکین لگین تو خوش کہان

[
مرزا غالب]

----------------------------- -

عشق نہ پاکڈا نہ تھا 'غالب' ابی واسعت کا رنگ رہ
گیا تھا دل میں جو کچھ ذوقِ خواریاں ہو رہی ہے

[
مرزا غالب]

---- ---------------------------
بیعاد-عشق سیIN نہیں درتا ماگر 'اسد' جس
دل پہ ناز تھا مجھ سے وہ دل نہیں رہ رہے

مرزا غالب]

-------------------------------
آرز E نیاز-ای عشق کی قابیل نہیں رہ رہا جس
دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہ رہے

[
مرزا غالب]

----------------------- --------
آک
لافزِ موہبٹ کا اتنا سا فسانہ ہے ، سمت تو دلِ عاشق ، پھیل تو زمانہ ہے۔

[
جگر MORADABAI]

---------------------------------
ان کا جو عقیدہ ہے وہ اہل سیست جانین ،
میرا پیہم موہببت ہے ، جہاں تک پہونچے۔

[
جگر مورادابئی ]

---------------------------------
عشق-لا محدود جب تک راہومہ ہوتی نہیں ،
زندگی سی زندگی کا حق اڈا ہوٹا نہیں۔

[
جگر مورادابئی]

---------------------------------
اللہ اللہ ، یہ کمال-ارتباط ای حسین
-O- 
عشق ، فاصلے ہون لاکھ ، دل سے دل یہوڈا ہوتا نہیں۔

[
جگر مورادابائی]

---------------------------------
تم عشق نہیں آسان باس اتنا سماجہ لیجے
ایک آگ کا دریا ہے ، اور ڈوب کے جانا ہے

جگڑ مرادآبادی]

-------------------------------
کیا عشق کی ہاتھن سی ہرگز نا مظفر دیکھا
اتنی ہی بارھی حسرت جتنا ہی ادھر دیکھا

[
جگر مورادآبادی ]

-------------------------------

عشق لا محدود جب تک رہ۔نوما ہوتی نہیں زندہگی
سی زندگی کا حق اڈا ہوٹا نہیں

[
جگر مرادآبادی]

-------------------------------
دنیا کی فکڑ ، دین کی باتیں ، خدا کی یاد ،
سب کچھ بھولا دیا تیرے دو دن کے پیارے نہ۔

[
اختر شیرانی]

---------------------------------
ذوق الحدید میں لزت تو ہے مگر ناز نہیں
آ میرے عشق کو مغرور بنے دے آ کار

[
اختر شیرانی]

-------------------------------
عشق ہای عشق ہے دنیا میری
فتنه ای عقل سی بیزار ہوں میں

[
مجاز]

-------------------------------
تم میرے عشق کی مجبووریہ معاذ اللہ
تمھارا راز تمھین سی چوپا رہہ ہن مین

[
مجاز]

------------------------------ -

UTHEN 
جی ابی AUR کی BHI کی TOOFAAN سے MERE DIL SE کی
DEKHOON 
گا ابی سے ISHQ KE سے KHWAAB AUR کی ZYAADA

[
مجاز]

----------------------------- -
سے UMR کرنے SAARI کی کٹی عشق BUTAAN MEIN کی، 'مومن'،
سے AAKHRI سے WAQT MEIN میں سے KYA نام خاک MUSALMAAN HONGE.

[
مومن]

---------------------------------
مریز ای عشق پار رحمت خدا کی
مارز برہٹا گیا جون- جون داوا کی

[
مومن]

-------------------------------
مکتب E عشق کا دیکھا یہ نیرالہ دستور
ہم کو چھوٹی نہ ملی جس نہ سباق یاد کییا

[
مومن]

--------------------------- ----
ایبٹیدہ ای عشق ہے ، روٹا ہے کیا ، اگے دیکھے ہوتی ہے ہے
کیا۔

[
میر تقی میر]

---------------------------------
صفت کافر تھا
جس نہ پہل '' میر '، مظہر- ای عشق اشتہار کییا

[
میر تقی میر]

---------------------------------
ہوگا کاسو دیور کے سائیں میں پارا 'میر،
کیا کام محببت سی ہم اورام طلاب کو۔

[
میر تقی میر]

---------------------------------
کیا کہ تم تم مین میں کیا ہے عشق ،
جان کا روگ ہے ، بالا ہے عشق۔

[
میر تقی میر]

---------------------------------
یہ زرداری زرد چہرہ ، یہ لاغری بدن میں ،
کیا عشق میں ہوا ہے ، آئ 'میر' ہل تیرا۔

[
میر تقی میر]

---------------------------------
لاگا نہ دل کو کہاں ، سنہ نہیں تم نے
جو کچھ کے 'میر' کا یہ عاشقی نہ ہل کیا ہے۔

[
میر تقی میر]

---------------------------------
عشق ، 'میر' ، ایک بھاری پتھر ہے ،
کب یہ تم نہیں توان سی اُٹھتا ہے۔

[
میر تقی میر]

---------------------------------
میرا سلیقے میری نبی محبط میں ، تمام عمر میں
نا -کمیون سی کام لیہ۔

[
میر تقی میر]

---------------------------------
آوارگان ای عشق کا پوچھہ جو مین نشان ،
مشت GHغوبار صبا نی لی کر ادا دیا۔

[
میر تقی میر]

---------------------------------
ہر چند میں نی شوق کو پنہاں کیا ، والا ،
ایک آدھ ہرف پیار کا ، منہ سی نکال گیا۔

[
میر تقی میر]

---------------------------------
جن جن کو تھا یہ عشق کا بازار ، مار گیے ،
اکسر ہمارے سات کے بیمار مار گیئے۔

[
میر تقی میر]

---------------------------------
کون مقصود کو عشق بن پہونچا
آرزو عشق وا مدظہ ہائے عشق

[
میر تقی میر]

-------------------------------
عاشق سا تو سادہ کوئی اور نہ ہوگا دنیا میں
جی جی کے زیاان کو عشق میں ہمارا اپنا اپنا جانے ہے

[
میر تقی میر]

-------------------------------
عشق ہمارے خیال پڈ ہے ، خوش گیا ، آڑم گیا
جی کا جانا تھاھر رہ گیا ، سبھا گیا ، یا شم گیا گیا

[
میر تقی میر]

-------------------------------
کبو وو توجوجا ادھر کر رہ گا ہمین
عشق HAI کی عصر کار RAHE کی، گا

[
میر تقی میر]

-------------------------------
العالم العالم عشق جنون سے HAI DUNIYA- دنیا توہمت ہے
دریا۔ ڈاریا روٹا ہن مین ساہرہ SAHسہرہ واشاعت ہے

[
میر تقی میر]

-------------------------------
ساکت کافر تھا جس نہ پہلے میر
مظہب عشق اقتیاار کییا

[
میر تقی میر]

-------------------------------
موہابت ترک کی می نی ، گریباں دیکھیں لییا مین نی ،
زمانے خوش ہو اب تو ، ظہر یہ بھی پی لیا لیا نی۔

[
ساحر لدھیانوی]

---------------------------------
دل- کے مزمل میں نٹیجھے کی فکڑ کیا؟
ایج ہے عشق جرم-او۔سزاء کی میکام سی۔

[
ساحر لدھیانوی]

---------------------------------
تخت کیا چیز ہے اور لال لا او جواہر کیا ہے
عشق والا تو خدایا بھی لُٹAا دٹیے ہین

[
ساحر لدھیانوی]

------------------------------- 
زندہگی سرف محبٹ نہیں
کوچ کچھ اور بھی ہے
سے ZULF-O- سے RUKHSAAR KI کی جنت سے NAHIN سے KUCHH AUR کی BHI کی ہائی

BHOOKH AUR 
میں سے PYAAS مون سے MAARI HUYI IS کی DUNIYA MEIN کی
اشک ہیلو EK کی حقیقت سے NAHIN سے KUCHH AUR کی BHI کی ہائی

[
ساحر لدھیانوی]

---------------- ---------------

'
فراز' ہم-بیعجب بستیون میں باستے ہیں ، کہان
کا عشق؟ ، راہ او راسم کو تراستے ہین۔

[
احمد فراز]

---------------------------------
عشق تنہ ہے سر ای منزل۔جوم
کون ہے یہ بوجھ اتھاں آئے

[
احمد فراز]

-------------------------------
پہلی پہل کا عشق ابی یہ ہے 'فراز'دل خوش یہ چاہتا تھا کے رسوایان بہ بھی ہون

[
احمد فراز]

-------------------------------
ہر ایک عشق کی بات اور اوس کی عشق کی بات
'
فراز' اتنا بھی آسان نہ تھا ثمبلہ جانا

[
احمد فراز]

----------------------------- -
ٹو خدا ہے نا میرا عشق
فریشٹن جیسہ ڈونون انسان ہی تو تو کیون اٹنے حجاباں میں ملین

[
احمد فراز]

-------------------------------

ASHIQI 
کی BE-زبان سے SE سے MUSHKIL HAI کی
سے PHIR سے MUHABBAT USI کی ایس ای سے MUSHKIL HAI کی
اشک ASGHAAZ ہائے سی مشکیل ہے
صابر کرنا ابی مشکیل ہے

[
فیض احمد فیض]

--------------------------------- 
کام
عشق کی آتے آٹا رہا
اور عشق سی کام الاجتہ رہا پیر آخیر
تانگ آا کار ہم نی
ڈونن کو ادھورا چھور دیا

[
فیض احمد فیض]

----------------------- --------
عشق کی دریا-دلِ درکار ہے
دوبن والے کا بیڑا پار ہے

[
حشر سحرصامی]

------------------------- --------
عاشق کی بھی کاٹی ہین ، کیا خوش ترہ راات ،
دو چار گھراری رونا ، دو چار گھری باتیں۔

[
میرزا سعودہ

---------------------------------
جب عشق سکھاٹا ہے ایڈاب -E-KHUD-AAGAAHI،
KHULTE 
ہین غلامان پار ، اسرارRA شاہانشاہی۔

[
علامہ اقبال]

---------------------------------
محبBATت سی شفا پاؤں ہے بیئرار کمون نی ،
کیا ہے آپ بخت -E-KHUTA KO BEDAAR QAONON NE.

[
علامہ اقبال]

---------------------------------
موہابت کے لیئے دل دھوند کوئی توتنے والا ،
یہ ہے مائی ہے جیس رکھے ہین نازوک آب جینن میں۔

[
علامہ اقبال]

---------------------------------
پختہ ہوتی ہے اگر مسلاہت - اندیش ہو عقل ،
عشق ہو مسلہات -اندیش تو ہے خیر ابی۔

[
علامہ اقبال]

---------------------------------
انوکی وازہ 'ہی سارے زمانے سے نیرے ہین ،
یہ اشقیق کون سی بستی کی یا رب رہنے والے ہیں۔

[
علامہ اقبال]

---------------------------------
بیعانِ محببت دشتِ غربت بھی ، وطن بھی ہے ،
یہ ویراں قفس بھی ، آشیانہ بھی ، چمن بھی ہے۔

[
علامہ اقبال]

---------------------------------
تیری عشق کی انٹاہا چاہا ہن
میری سادگی دیکھے کیا چاہتا ہوں

علامہ اقبال]

-------------------------------
عشق دیم جبرائیل ، عشق دل ای مصطفی
عشق خدا کا رسول ، عشق خدا کا کالام

[
علامہ اقبال]

-------------------------------
عشق بھی ہو حجاب میں حسین بھی ہو حجاب میں یا
آپ ٹو خدائ اشکار ہو یا مجھ کو آشکار کر

[
علامہ اقبال]

-------------------------- -----
سیتارون سی ایج جہاں اور اور بھی ہے
ابی عشق کی امتیاز اور بھی ہے

[
علامہ اقبال]

--------------------------- ----
کوہ کان او اوجنون کی خاطیر دشت او کوہ میں ہم نہ گی
عشق میں ہم کو 'میر' نہایت پاس ای عزت دران ہے

[
علامہ اقبال

---------- ---------------------
بی خطر کوڈ پارا آتیش نام
نمروڈ مین عشق اقال تھی مہو E تمشا لیب ای بعام ابی

[
علامہ اقبال]

------------------------------- 
نہیں
عشق میں ہے کا تو رنج ہمن کے قار- O-شکیب زرا نہ رہا ،
گھم عشق تو اپنا رفیق رہا ، کوئ سور بالا سی رہ نہ رہاہ۔

[
بہادرشاہ ظفر]

---------------------------------
شیعید عیسی کا نام محب HAIت ہے ، 'شفٹا'آک آگ ہے جو سینی کے اندر لاگی ھوئی۔

شیفہ ]

---------------------------------
شوال بہتر ہے عشق بازی کا ،
کیا حققی ویا کیا مجازی کا .

[
ولی]

---------------------------------

MOHABBAT 
کی KO کی SAMAJHNA HAI کی NASEH سے KHUD MOHABBAT کی کار،
KINAARE 
ایس ای KABHI کی ANDAAZA -E-TOOFAAN NOIN HOTA.

[
ولی]

---------------------------------
عشق نہ دل میں جاگاہ کی تو قضا بھی آئ ،
درد دنیا میں جب آیا تو دعو بھی آئی۔

[
فانی بدایونی]

---------------------------------
یہ عشق نہ دیکھا ہے ، یہ عقیل سی پنہاں ہے ،
قطرہ میں سمندر ہے ، زرارہ میں بیابان ہے۔

[
اصغر گونڈوی]

---------------------------------

'
اصغر' حریم-عشق می ہستی ہائے جرم ہے ،
رخنہ کبھی نہ پاؤں یہاں سر لیYEے ھوئے

[
اصغر گونڈوی]

---------------------------------
ہوتی نہیں دعا دعا درد ای عشق کی ،
دل چاہا نہ ہو تو زاباں میں عسار کہان

[
الطاف حسین حالی]

----------------------------- ----
اکر عمر چاہے کے گوارہ ہو نعش عشق
راکھی ہے آج لزZت ذخم ای جگر کہاں

[
الطاف حسین حالی]

----------------- --------------
جو راہ عشق می قدم رکھن ،
وو ناشب او فراز کیا جانین۔

[
داغ دہلوی]

---------------------------------

'
داغ' تھا در تھا تھا گھم تھا کے عالم تھا کچھ تھا
لی لیہ عشق میں جو ہم کو مایاسار آیا

[
داغ دہلوی]

-------------------------------
مزمل ہے آج حسین -O-ISHQ کی KA میں
DEKHIYE 
کی سے WOH سے KYA کیرن ہام سے KYA کیرن

[DAAGH 
کی دہلوی]

-------------------------------

KHABR-E -
تہایور-ای عشق سن ، نا جانون رہا ، نہ پوری راہی ،
نا تو تو رہا ، نہ تو مین رہا ، جو رہی ہو لہبری راہی۔

[
سراج اورنگ آبادی]

---------------------------------
وہ عجب گھری تھی جس گھری لیہ درس نسقہ ای عشق کا ،
کی کتاب عقل کی توق میں ، جیون دھاری تھی تیون ہائے دھری راہی۔

[
سراج اورنگ آبادی]

--------------------------------- 
کچھ
آگ دی ہواس میں تو تمیر عشق کی ،
جو خاق کار دیا اسے عرفان بانا دیا۔

[
اصغر گونڈوی]

---------------------------------
مین کیا کہوں کہاں ہے محبBATت ، کہاں نہیں ،
راگ راگ میں داؤد فرستی ہے ، نشتر لیے ھوئے

[
اصغر گونڈوی]

---------------------------------
سنت ہین عشق نام کی گذری ہین ایک بوزورگ ،
ہم لوگ بھی فقیر عیسی سیلسی کے ہین۔

فیراق گورکھپوری]

---------------------------------
تار ای محبط کرنے والو ، کون ایسا جیگ جیت لیا ،
عشق سی پہلے کی دین سوچو ، کون بڑے سکھ ہوتا تھا۔

[
فیراق گورکھپوری]

---------------------------------
حسین پارسٹی پاک موہبت بن جاٹی ہے ، جب کوئی ،
واسال کی جسمانی لازت سی روہانی کفایت لی۔

[
فیراق گورکھپوری]

---------------------------------
وہی عشق رحمت ، وہی عشق شمات ،
وہی زندہ کر دے ، وہی مار ڈالے۔

[
فیراق گورکھپوری]

---------------------------------
حیات ای محببت سر با سر- موٹ ، محب Zزندگی کا دوسرا نام

[
فراق گورکھپوری]

---------------------------------
خلوسِ ای دل سے پوکارے جو ایک بار میرے ،
ہم عدم کا ابی تک ہے انٹرازار مجے۔

[
فراق گورکھپوری]

--------------------------------- 
ہزار
بار زمانہ ادھر سی گزرہ ہے ،
نئی نئی سی ہے تیری رہ گوزار پیر بھی

فیراق گورکھپوری]

---------------------------------
محبBATت میری میری تنہائیاں ، ہن کائی انوان ،
تیرا آنا ، تیرا ملنا ، تیرا اتنا ، تیرا جانا

فیراق گورکھپوری]

---------------------------------
تو عشق ہائے کی پشیمانیون کو روٹا ہے توزہ
خبر ہی نہیں حسین بھی تو پاچھتایا

[
فراق گورکھپوری]

-------------------------------
نشاط ای عشق کے کھلتے ہی بھید ، آنک بھر سے AAYIسے ABHI کرنے سے HANSTE وہ یہ ہے HAAL کی KYON کی ACHAANAK سے HAI

[
فراق گورکھپوری]

-------------------------------
یکسوار جہاںAN حسن حسین بدلہ ہوا سا ہے
دنیا IYA ای عشق اور نذر آ گیا راہی ہے آج

[
فراق گورکھپوری]

------------------------ -------
آگر بخشی زحی رحمت ، ن بخشے تو شکائیت کیا ، سیر
تسلیم کھم ہے جو میزاج یا یار میں آئے۔

[
آتش]

---------------------------------
اپن ملنے سی مانا مات کار
ہے میں بختیار ہین ہم بھی .

[
میر ڈارڈ]

---------------------------------
عاشقی قید شریعت میں جب آ جاتی ہے ،
جلوہ -E- کسرت- E-AULAAD DIKHA JATI HAI.

[
اکبر الہ آبادی ]

---------------------------------
عظیم ، مسیبیت ، ملامت ، بلائیں ،
تیری عشق میں ہم نی کیا نا دیکھا!

[
میر ڈارڈ]

---------------------------------
سب خون ای دل تپک ہا گیا بوند بونڈ کار
عی 'دارد' باس کے عشق سی میں تھا شکستِ دل

[
میر درد]

-------------------------------
تم میرا پاس ہوٹی ہو گویا ،
جب کوئی دوسرا نہیں ہوٹا۔

[
مومن]

---------------------------------
عشق بازی کی تمنا اگر رکھتا ہے 'عامر'دل اگر ایک دیا ہے ، لاکھ جگر پائیڈا کار

[
عامر مینائی]

-------------------------------
جیس عشق کا تیرا کاری
لیگی ، یوسی زندگی کیون نہ بھاری لگے۔

[
ولی]

---------------------------------
مین راہ ای عشق کا تانھا موسیٰفیر کزے آواز
دوون ، کوئ نہیں ہے

[
شمیم جیپوری]

------------------------------- 
کیون ہجر کے شک
وے کارتا ہے ، کیون درد کی روٹا روٹا ہے
اب عشق کیا ہے تو صابر بھی کار ہے میں تو یحی کچہ ہوتا ہے

[
حفیظ جالندھری]

-------------------------------
تیری لاڈنے پہ خوشہ پیج تیرے عشق کا حال توجھے اٹھی تھی محبط مجھے ملیوم
نہ تھا

[
منور لکھنوی]

------------------------------ -
وثیق ہی جوش عشق سی آپ
تمیم شہر اور ہم یہ جانتے ہیں ، کوئی جانتا نہیں

[
جوش ملیح آبادی]

------------------------- ------
واخت نہ دیکھے عمرہ نہ دیکھے جب چاہے مجور کر
موٹ اور عشق کی عمر تو کوئی چلے نہ بہانہ جی

[
گنیش بہاری طراز ]

-------------------------------
عشق ایس ای GHABARA راہی HAI کی غیر مون سے YAAD
RUKTE RUKTE AA 
کی راہی HAI کی غیر مون سے YAAD

[
شکیل BADAYUNI ]

-------------------------------
ثم ای آشقی سی کہ دو رہ عام عام تک نہ پہونچے
مجھے کھوف ہے یہ توہت میرے نام تک نہیں پہونچے

[
شکیل بدایونی]

-------------------------------
میرا ہم نفس ، میرے ہم -نوا ، مجھ دوست بان کی دھاگہ نہ میں ہوں
درد ای عشق سی جان بالاب ، مجھے زندگی کی دعا نہ دی

[
شکیل بدایونی]

------------------ -------------
جہان عشق می سوہانی کہن دیکھے دے ہم
آپی آنکھ میں کتنے چناب رختے ہین

[
حسرت جیپوری ]

--------------- ----------------
عقیل ایاار ہے سو بھیس بادل لیٹی ہے عشق بیچارہ
نہ صوفی ہے نا ملا نہ امام

[
آرزو لاکھنوی]

----------------------------- -
عی حضرت - دل عشق می
گھم بھی ہین سیتم بھی آکھیر اسÉ ساہیÉ اسÉ سیسیا کسÉ سہÉی

[
نوح ناروی]

------------------------ -------
گو عشق باہوت مشکیل تھا ماگر آسان نہ تھا ین جینا بھی
مسئلہ عشق نی زندہ رہنا کا مجھے درس دیا پنڈا دیا

[
عبید اللہ علیم]

--------------- ----------------
چلنے کا حوصلہ نہیں رُکنہ محال کر دیا
عشق کی ہے صفر نہ تو مج کو نڈھال کر دیا

[
پروین شاکر]

----------- --------------------
موت کا خؤف ہو کیا عشق کی دیوانے کو
موت خدا کانپتی ہے عشق کی دیوانے سی

[
ساحر ہوشیارپوری]

-------------------------------
جب سورج بھی کھو جائے گا اور چاند کہیں تو جاے گا
تم بھی گھر ڈیر سے آو جی جب عشق تمن ہو جاے گا

[
سعید راہی]

---------------------------- ---
دیکھنا بھی تو انین دروازے سے دیکھا کرنا
شیوا ای عشق نہیں حسین کو رسوا کرنا -

[
حسرت موہانی]

------------------------- ------
دولتِ دل بھی گی
I
ی جان بھی ہے مشک MEل میں کیا یحی عشق میں عناAم وفاء ہوٹا ہے

[
عبد اللہ نذیر]

----------------- --------------
شمع میں آئندہ نہ دیکھن گی وو ہم کو
کیا کیا نہ کیا عشق میں ، کیا کیا نہ کرے گی

[
ابن انشا]

-------------------------------
دل عشق میں بی پاAYAں سعودیہ ہو تو ایسا ہو
دریا ہو تو ایسا ہو ، سحرہ ہو تو عیسی ہو

[
ابن انشا]

-------------------------------
ہن حسین او عشق کی فطرت میں فرق باس اتنا
وہ ہنس راے ہین ہم آنسو بہائے جاٹے ہیں

[
احسان دانش]

-------------------------------
عشق نہیں جو زیست کو دولتِ آگاہی نہ دی
مہر نہیں جو خاق کو خلافتِ راشنی نا دے

[
ذکیہ سلطانہ]

---------------------- -----------
کیا کہون تم سے میں کیا کیا ہے عشق
جان کا روگ ہے ، بالا ہے عشق
عشق ہی عشق ہے جہاں دیکھو
سارے آلام میں بھر رہا ہے عشق
عشق MA'SHOOQ، عشق عاشق ہائی
YA'NI 
سے APNA ہیلو MUBTALA سے HAI ISHQ میں
سے ISHQ HAI TARZ-O-TAUR سے ISHQ KE کی TAYINسے KAHIN بانڈہ سے KAHIN KHUDA HAI کی اشک
کون MAQSAD KO کی اشک بن PAHUNCHAآرزو عشق سے WAA MUDDA'A سے HAI ISHQ میں
سے KOI KHWAAHAAN NAHIN کی MOHABBAT میں KA میں
بہت سے KAHE مسئولیت-E-NAARAWAA سے HAI ISHQ کی

'MEERJI' ZARD HOTE 
کی JAATE HAIN کی
KYA 
کی کہیں سے TUM NE کی BHI کی KIYA کی ہائی اشک

[
میر تقی میر]

-------------------- -----------
عشق بقاع E روہ ہے ، عشق غزاء رو رو ہے
یہ جو نہیں تو ڈہار میں ، لطف حیات ہی نہیں

---------- ---------------------
عشق آوارا کاہن قائد ڈیر او بعام کہاں نو نواؤون کے لیئے
سایہ ای دیوار باہوت

-------- -----------------------
عشق رسوا تیری ہر زخم فی فرزاں کی قاسم میری سینے میں کی ہے ہرے
اور بھی ہیں

-------------------------------
عشق کا ایک جست نہ تائی کر دیا قصا تمام
ہے زمین-او-اسمان کو بی کاران سمجھا تھا مین

--------------------------- ----
عشق کا جرم
سہیل کام نہیں ہر ایک لا ئقِ عزا تھہری

-------------------------------
عشق کا خیل بھی ہے دوسری خیلون جیسہ
مات کا جن میں نہیں ہسلا کھیلے کیون ہے

-------------------------------
عشق کارتا ہے تو
پیر عشق کی توہین نہ کر یا تو بہوش نہ ہو ، ہو تو پیر ہوش میں نہ آ

----------------------------- -
عشق کرنا کی سیوا ہم نی کیا ہی کیا ہے
BAIS-E- FAKR HAI JO WAJH-E- PARSHAANI HAI

-------------------------------
عشق کو پوچھتا نہیں کوئی بھی
حسین کا احتہرم ہوتی ہے


-------------------------------
عشق کو جرم سماجتھے ہین زمانے والا
جو یہاں پیارے کرے گا کون سا پایا گا

-------------------------------
عشق کو حسین سی کھلی نہ سمجھو
نہالہ اہ اہل وفا وفا ثور سی سن

-------------------------------
عشق کی چوٹ تو
لگتی ہے ہرے دل دل ظریف کے فرک سواز آواز بادل جاتی ہے

-------------------------------
عشق میں
جس کلیدہ یہ اہوال بنو رکہ ہے اب واہی کہتا ہے یہ وازا میں ہے کیا راکھا ہے

-------------------------------
عشق میں زات کیا کیا انا
قیسی ان مقتامت سی گزار جاو

-------------------------------
عشق میں سر پھورنا بھی کیا کیہ یہ بی مہر لاگ
جو ای Eون کو نام دیے دیٹی ہین جو شیر کا

------------------------------ -
عشق میں منزل۔آرام بھی تھی
ہم سر کوچ و واشت طاہری

-------------------------------
عشق نی سیکھ ہائے لی وقت کی تقویم کے اب
کون کون ہے میرا تو تو آیا ہے مگر کام کی بات

-------------------------------
عشق کون ارس -ہ پری کھار ہے ہمدوم کے جہاں زندہ باد راس
نہ آئے تو قضا بھی نہیں میل

---------------------------- ---
یہ رازِ عشق چھپانے سی چھوپ نہیں سکتہ
ذبان جو کہ نہ ساکی آنک سی آیان بھی تو ہے

-------------------------------
وو شوک تو مسروف ای محبط تھا کہ اور
ہم ہم عشق جو کارٹے بھی تو بیکار ہائے کارتے


Disqus Comments